صَدقہ وخیرات
کا ثواب
صَدقہ و خیرات سے جہاں دولت مُعاشَرے میں گردش کرتی ہے
وہیں غریبوں اور مسکینوں کی بَہُت سی ضَرورتیں بھی پوری ہوتی ہیں۔قرآنِ پاک میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے کئی مَقامات پر صَدقہ و خیرات کی فضیلت اور اس کے
اجرو ثواب کو بیان فرمایا ہے ۔چنانچہ پارہ 3سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 261میں ارشاد
ہوتا ہے :
مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ
سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ
سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍؕ-وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ
وَاسِعٌ عَلِیْمٌ(۲۶۱) (پ۳، البقرۃ : ۲۶۱)
ترجمۂ کنزالایمان : انکی کہاوت
جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خَرْچ کرتے ہیں اُس دانہ کی طرح
جس نے اُوگائیں سات بالیں ہر بال میں سو دانے اور اللہ اس سے بھی زیادہ بڑھائے جس کے لئے چاہے اور اللہ وُسْعَت والا عِلْم والا ہے ۔
راہِ خُدا میں خَرْچ کرنے
سے مُراد
پیارے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا راہِ خُدا میں خَرْچ کرنے سے اللہ عَزَّ
وَجَلَّ اپنی
رضا کے ساتھ انعام بھی عطا فرماتا ہے ۔ مگر سوال یہ ہے کہ راہِ خُدا میں خَرْچ کرنے سے مُراد کیا
ہے ؟ تو جان لیجئے کہ عِلْمِ دین کی اشاعت میں حصّہ لینا، دینی مَدَارِس کی مَدَد کرنا،
مَسَاجِد بنانا، دینی کُتُب کے لیے لائبریری بنانا، مُسافِر خانے بنانا، ضَرورت
مند پڑوسیوں اور رِشتہ داروں کی مَدَد کرنا، محتاجوں، اَپاہجوں اور غریبوں کے علاج
مُعالَجہ اورمَقْروضوں کے قرض کی ادائیگی کے لیے خَرْچ کرنا وغیرہ ایسے کام ہیں کہ
ان میں سے جس کام میں بھی خَرْچ کریں گے وہ راہِ خُدا میں خَرْچ کرنا ہی کہلائے
گا۔ جیسا کہ حضرت سَیِّدُنا امام خازن ابو الحسن علاءُ الدين علی بن
محمد بن ابراہیم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ (متوفى۷۴۱ھ) مذکورہ آیتِ مُبارَکہ کی تفسیر میں
فرماتے ہیں : راہِ
خُدا میں خَرْچ کرنا خواہ واجِب ہو یا نَفْل، تمام اَبوابِ خیر کو عام
ہے ۔ اور صَدْرُ الافاضِل رَحمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ کے نزدیک کسی طالب عِلْم
کو کِتاب خرید کر دی جائے یا کوئی شِفا خانہ بنادیا جائے یا مردوں کے ایصالِ ثواب
کے لئے تیجہ، دسویں، بیسویں، چالیسویں کے طریقہ پر مساکین کو کھانا کھلایا جائے ،
سب راہِ خُدا میں خَرْچ کرنا ہی ہے ۔
جب کوئی شخص راہِ خُدا میں اپنا مال خَرْچ کرتا ہے تو اللہ عَزَّ
وَجَلَّ اس کے عوض سات سو
گنا یا اس سے بھی زیادہ اَجرو ثواب عطا فرماتا ہے جیسا کہ صدر الافاضل حضرتِ علامہ
مولانا سید محمد نعیم الدین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی مذکورہ آیتِ مُبارَکہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ایک دانہ کے 700 دانے ہوگئے اسی طرح راہِ خُدا میں
خَرْچ کرنے سے 700 گنا اجر ہوجاتا ہے ۔
پیارے اسلامی بھائیو!جب یہ یقین ہو کہ راہِ خُدا میں خَرْچ کرنے سے ایک کے بدلے 700 ملیں
گے تو کوئی نادان شخص ہی اپنا سرمایہ اس سودے میں نہیں لگائے گا۔ اللہ عَزَّ
وَجَلَّ اپنی راہ میں خَرْچ کرنے
والوں کو یُونہی دیا کرتا ہے ، حضرت سَیِّدُنا امام شمس الدین قُرطبی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں کہ جب یہ آیتِ مُبارَکہ نازِل ہوئی تو اللہ عَزَّ
وَجَلَّ کے خزانوں کو تقسیم
فرمانے والے ہمارے آقا دَو جہاں کے
تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللّٰہ تعالٰی
علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بارگاہِ خُداوَندی میں عرض کی : رَبِّ زِدْ اُمَّتِی یعنی اے میرے پروردگار عَزَّ وَجَلَّ! میری اُمّت کو اس سے بھی زیادہ اجر و ثواب عطا
فرما تو بارگاہِ خداوندی سے یہ مژدہ ملا :
مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا
فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِیْرَةًؕ- (پ۲، البقرۃ : ۲۴۵)
ترجمۂ کنزالایمان : ہے
کوئی جو اللہ کو
قرضِ حَسَن
دے تو اللہ اس کے لئے بَہُت گُنا
بڑھا دے ۔
محبوبِ ربِّ دَاوَر،
شفیعِ روزِ مَحْشَر صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے یہ مژدہ پانے کے باوُجُود اپنی اُمّت کی
دَستگیری فرماتے ہوئے مزید کرم نَوازی کے لیے عرض کی : رَبِّ زِدْ اُمَّتِی یعنی اے میرے رب! میری اُمّت کو اِس سے بھی زیادہ
اجر و ثواب عطا فرما تو ارشاد ہوا :
اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ
حِسَابٍ(۱۰) (پ۲۳، الزمر : ۱۰)
ترجمۂ
کنزالایمان : صابروں ہی کو ان کا ثواب بھرپور دیا جائے گا بے گنتی۔
مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الاُمَّت مُفْتِی
اَحمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان تفسیر نعیمی میں فرماتے
ہیں : صَدْقات کے ثواب میں زیادتی کمی چند وجہ سے ہوتی ہے ۔ اخلاص کا فرق، زمان کا
فرق، فقیر کا فرق، مَقامِ خیرات کا فرق، جس قدر اِخلاص زیادہ اسی قدر ثواب زیادہ۔
٭ …(اِخلاص
کے فرق کی مِثال) صَحابۂ کِرام کے سَوا
سیر جَو ہمارے پہاڑ بھر سونے کی خیرات سے کیوں افضل ہیں، اس لیے کہ ان کا سا
اِخلاص ہم کو کیسے میسر ہو؟
[1] تفسیر
خازن ، البقرۃ، تحت الآية : ۲۶۱، ۱ / ۲۰۵
[2] خزائن
العرفان، پ۳، البقرۃ، تحت الآية : ۲۶۱
[3] تفسیر قرطبی، البقرۃ، تحت الآية : ۲۶۱، ۲ / ۲۲۹




0 Comments