٭ …(زمانے کے فرق کی مِثال) ماہِ رمضان، جُمُعہ، شبِ قدر کے صَدقہ کا بَہُت ثواب ہے ، دوسرے زمانہ کے صَدْقات کا وہ
ثواب نہیں۔
٭ …(مَقام کے فرق کی مِثال) مکّہ معظّمہ، مدینہ منوّرہ کے صَدْقات کا ثواب ایک کا ایک لاکھ 25 ہزار اور زمین میں یہ نہیں(یعنی کسی دوسرے مقام پر یہ ثواب نہیں) ۔
٭ …(فقیر
کے فرق کی مِثال) عالِم
فقیر اور زیادہ حاجَت مند پر صَدقہ دوسروں
پر صَدقہ سے زیادہ ثواب کا باعِث ہے جیسے دانہ کی پیداوار زمین و زمان
کے فرق سے مختلف ہوتی ہے غرضیکہ وَ اللّٰهُ
یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُؕ- بالکل حق و دُرُسْت ہے ، صَدقہ مقبول کی
توفیق بھی وہی دیتا ہے ۔ صَدقہ کا یہ ثواب جو بیان ہوا اس کے ملنے کی
جگہ آخِرَت ہے اگر دُنیا میں رب تعالیٰ سخی
کو کچھ بَرکت دیدے تو اس کا کرم ہے مگر یہ بدلہ نہیں، بدلہ تو قِیامَت میں
ملے گا۔ لہٰذا کوئی شخص آج خیرات دیکر کل ہی 700 کا مُطالَبہ نہ کرے ۔ کھیت بَونے
کا وَقْت اور ہے اور کاٹنے کا اور۔([1])
حضرت علامہ ناصرالدين ابو سعيد عبد
اللّٰه بن عمر بن محمد شيرازی بيضاوی عَلَیْہِ
رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی (متوفى ۶۸۵ھ) وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُؕ- (یعنی اللہ عَزَّ
وَجَلَّ جس
شخص کے لیے چاہتا ہے اجر و ثواب بڑھا دیتا ہے ) کی تفسیر میں
فرماتے ہیں
: اس سے مُراد یہ ہے کہ وہ اپنی راہ میں خَرْچ کرنے والے کی حالَت کے
مُطابِق اس کو اپنے فضل و کرم سے نوازتا ہے یعنی یہ مُلاحَظہ فرماتا ہے کہ اس کی
راہ میں خَرْچ کرنے والا کس قدر مخلص اور
کوشِش کرنے والا ہے ؟یہی وجہ ہے کہ اَعْمال ثَواب کی مِقْدار کے مُعامَلہ میں مختلف ہوتے ہیں۔([2])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!راہِ خُدا میں خَرْچ کرنے والے کی حالَت کے
اِعتبار سے ثواب میں فرق کو اس مثال سے بآسانی سمجھا جا سکتا ہے : تین شخص ہوں مگر
تینوں کی حالت مختلف ہو، ایک انتہائی مالدار ہو، دوسرے کے پاس اس قدر مال ہو کہ
اپنی ضَروریاتِ زِنْدَگی پورا کرنے میں کسی کا محتاج نہ ہو جبکہ تیسرے شخص کے پاس
صرف دو روٹیاں ہوں۔اب اگر کوئی فقیر ان تینوں اَشخاص کے پاس باری باری جاکر کچھ
کھانے کے لیے مانگے اور ان میں سے ہر ایک اسے دو دو روٹیاں دے تو بے شک ہر ایک نے
نیک کام کیا مگر ان تینوں کی حالت کے اعتبار سے ان کی نیکیوں میں فرق ہے ، کیونکہ
جس شخص کے پاس صرف دو ہی روٹیاں تھیں اس کا یہ دونوں روٹیاں فقیر کو دیدینا ایسا
ہے جیسے مالدار شخص اپنی ساری دَولَت اس فقیر کو دیدیتا۔لہٰذا یہ ہوسکتا ہے کہ
مالدار شخص کو اس نیکی کا اَجْر دس گنا ملے ، متوسط آمدنی والے کو 700 گنا اور جس
کے پاس تھیں ہی دو روٹیاں اس کو بے حِساب اَجر ملے ۔چنانچہ،
اَمِیْرُ المومنین حضرت سَیِّدُنا عُمر فاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ (غزوۂ تبوک کے موقع پر) سرکارِ ذی وَقار صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ہمیں صَدقہ کرنے کا حکم دیا، اتفاقاً اس وقت میرے پاس مال بَہُت تھا، میں نے سوچا کہ اگر میں کسی دن حضرت سَیِّدُنا ابو بکر صدیق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے بڑھ سکتا ہوں تو وہ آج کا دن ہے ۔([3]) آپ فرماتے ہیں کہ میں اپنا آدھا مال لے کر بارگاہِ مصطفے ٰ میں حاضِر ہوا تو سرکار صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے پوچھا : مَا اَبْقَيْتَ لِاَهْلِكَ ؟ تم نے اپنے بال بچوں کے لیے کیا چھوڑا؟ میں نے عرض کی : اتنا ہی۔ (یعنی یارسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم!آدھا مال حاضِرِ خدمت ہے اور آدھا مال اہل و عیال کے لئے چھوڑ دیا ہے ) اتنے میں اَمِیْرُ المومنین حضرت سَیِّدُنا ابو بکر صِدّیق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ بھی اپنا مال لے آئے تو حُضور صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ان سے بھی پوچھا : يَااَبَا بَكْرٍ مَا اَبْقَيْتَ لِاَهْلِكَ ؟اے ابو بکر!تم نے اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا؟ تو انہوں نے عرض کی : اَبْقَيْتُ لَهُمُ اللّٰهَ وَرَسُوْلَه یعنی میں ان کے لیے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو چھوڑ آیا ہوں۔ ([4]) اَمِیْرُ المومنین حضرت سَیِّدُنا عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ اس وقت مجھے یقین ہوگیا : ’’وَاللّٰهِ لَا اَسْبِقُهُ اِلٰى شَىْءٍ اَبَدًا‘‘خُدا کی قسم!میں کبھی کسی چیز میں ان سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔([5]) اَشِعَّةُ اللَّمْعَات میں حضرت سَیِّدُنا شیخ عَبْدُ الْحَق مُحَدِّث دِہلَوِی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں : اَمِیْرُ المومنین حضرت سَیِّدُناابو بکر صدیق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا کل مال جنابِ سَیِّدُنا عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے آدھے مال سے مِقْدار میں اگرچہ بَہُت کم تھا مگر درجے میں بَہُت زیادہ تھا۔([6])
کیا صَدقہ سے مال میں
کمی ہوتی ہے ؟
پیارے اسلامی بھائیو!راہِ خُدا میں خَرْچ کرنے سے مال بڑھتا ہے گھٹتا نہیں جیسا کہ حديث شريف ميں ہے :
مَا
نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِّنْ مَّالٍ۔یعنی صَدقہ مال میں کمی نہیں
[1] تفسیرِ
نعیمی، پ۳، البقرۃ، تحت الاية : ۲۶۱، ۳ / ۸۶
[2] تفسیر بیضاوی، پ۳، البقرۃ، تحت الآية : ۲۶۱، ۱ / ۵۶۵
[3] مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم
الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان اس حدیثِ پاک کی شرح میں
فرماتے ہیں : حضرت عمر کا گمان یہ تھا کہ صدقہ میں سبقت زیادتی مال سے ہوتی ہے اور
مال تو میرے پاس زیادہ ہے ، لہٰذا میں ہی آج بڑھ جاؤں گا، مگر بعد میں پتا لگا کہ
صدقہ میں سبقت اخلاص کی زیادتی سے ہوتی ہے ۔ (مراۃ المناجیح، ۸ / ۳۵۵)
[4] قبلہ مفتی صاحب رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی
علیہ حدیثِ
پاک کے اس حصے کی شرح میں فرماتے ہیں : سارے مال کی خیرات حضرت صدیق اکبر کی
خصوصیت ہے ان کی اور ان کے بال بچوں کی طرح متوکل نہ کوئی ہوگا نہ سارا مال خیرات
کرے گا۔ ہم جیسوں کو بعض مال خیرات کرنے کا حکم ہے : ) وَ
اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ (ترجمۂ کنزالایمان : اور اللہ کی راہ میں ہمارے دئیے میں سے خرچ کرو۔ (پ۲۸، المنافقون : ۱۰) ۔ ٭میں مِنْ بعضیت کا ہے ، اگر
ہم سارا مال خیرات کردیں تو اگرچہ ہم صبرکر جاویں مگر ہمارے بیوی بچے پِیٹ پِیٹ کر
مرجاویں۔ خیال رہے کہ عابدوں کی نماز و زکوٰۃ اَور ہے عاشقوں کی اور نوعیت کی،
عارِفوں کی اور طرح کی۔ عابدوں کی زکوٰۃ سال کے بعد چالیسواں حصّہ۔ عاشقوں کی
زکوٰۃ اشارہ پا کر سارا مال۔ عابدوں کی نماز مسجدوں کی دیواروں کے سایہ میں عاشقوں
کی نماز تلواروں کے سایہ میں اس جواب سے معلوم ہوا اللہ رسول کے نام پر
خیرات، اللہ رسول پر توکل شرک نہیں عین ایمان ہے ۔ (مراۃ المناجیح، ۸ / ۳۵۵)




0 Comments