کیڑے رینگ رہے ہیں
حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدُالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک بار اپنے کسی رفیق سے فرمایا : بھائی
موت کی یاد نے میری نیند اُڑادی ، میں رات بھر جاگتا رہا اور قبر والے کے بارے میں سوچتا
رہا ، اے بھائی اگر تم تین دن بعد مُردے کو اُس کی قبر میں دیکھو تو ایک طویل عرصہ تک
زندگی میں سا کے ساتھ رہے ہونے کے باوجود تمہیں اُس سے وَحشت ہونے لگے اور اگر تم
اس کا گھر یعنی اُس کی قبر کا اندرونی حصہ دیکھو جس میں کیڑے رینگ رہے ہیں اور بدن کو کھا
رہے ہیں ، پیپ جاری ،سخت بد بُو آرہی ہےاور کفن بھی بو سیدہ ہو چکا ہے۔ ہائے ہائے غور
کرو تو یہی مُردہ جس وقت زندہ تھا تو خوب صورت تھا ، خوشبو بھی اچھی استعمال کرتا تھا
،لباس بھی عمدہ پہنا کرتا تھا ۔۔۔۔راوی کہتے ہیں : اتنا کہنے کے بعد آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر رقّت
طاری ہو گئی ، ایک چیخ ماری اور بے ہوش ہو گئے ۔
نرم نرم بستر اور قبر
تَعَجُّبحضرت سیِّدُ نا احمد بن حَرب رَحَمۃُاللہِ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :زمین کو اس شخص پر
ہو تا ہے جو اپنی خواب گاہ کو دُرُست کرتا اور سونے کے لیے نرم نرم بستر بچھاتا ہے ۔زمین
اُس سے کہتی ہے : اے ابنِ آدم تو میرے اندر طویل عرصہ تک اپنے گلنے سڑنے کو کیوں
یاد نہیں کرتا ؟ یاد رکھ میرے اور تیرے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ہو گی
بیل کی طرح چیختے
۔ سیِّدُ نا یزید رَکاشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ موت کو کثرت سے یاد رکھنے والوں میں سے تھے حضرتِ
جب ْقبروں کو دیکھتے تو قبر کے اندھیرے اور تنہائی کی وَحشت وغیرہ کے خوف سے اِس
قدر بے قرار ہو جاتے کہ آپ کے منہ سے بیل کی طرح چیخوں کی آواز نکلتی۔
قبر
میں ڈرانے والی چیزیں
واقِعی قبر کا معاملہ بے خوف ہونے والا نہیں ، آج ہم پر چھپکلی چڑھ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو
، بلکہ کَنکَھجورا قریب ہی سے گزر جائے تو بدن پر کپکپی طاری ہو جائے اور منہ سے چیخ جائے
ناراض صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم نکل جائے ،ہائے ہائے گناہوں کی وجہ سے اگر خدا و مصطَفّٰے عَزَّوَجَلَّ و
ہوگئے تو قبر کے تنگ گڑھے میں آکر کون بچائے گا ، کون تسلّی دے گا ۔ آہ آہ آہ اے بِلی کی
میاوں سن کر گھبرانے والو سنو حضرتِ سیِدُّنا علاّمہ جلالُ الدین سُیُوطی شافعی
شَرحُ الصُّدور میں نکل فرماتے ہیں : جب انسان قبر میں داخل ہوتا ہے تو وہ تمام چیزیں اُس
کو ڈرانے کے لیے آ جاتی ہیں جن سے وہ دنیا میں ڈرتا تھا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ سے نہ ڈرتا تھا ۔




0 Comments