قبر پر مٹی ڈالنے کا طریقہ

Ad Code

قبر پر مٹی ڈالنے کا طریقہ

 


قبر پر مٹی ڈالنے کا طریقہ


مسلمان کی قبر پر مٹی ڈالنا مُستَحب ہے ، اُس کا طریقہ بھی مُلاخَطَہ فرمالیجئے، قبر کے سرہانے  کی 

طرف سے دونوں ہاتھ سے مٹی اُٹھا اُٹھا کر تین مرتبہ ڈالئے ۔

 حدیثِ  مبارک میں ہے کہ  رسول اللہ  ﷺ نے جنازہ کے بعد  تدفین کے وقت  مردے  

کے سر کی جانب سے تین مٹھی مٹی  کی ڈالی؛ لہذا یہ طریقہ مسنون (مستحب) ہے کہ دونوں 

ہاتھ سے مٹھی بھر کر تین مرتبہ قبر پر مٹی ڈالی جائے، پہلی مٹھی سرہانے کی جانب، دوسری 

درمیان میں اور تیسری پاؤں کی جانب، اور مستحب ہے کہ پہلی مٹھی ڈالتے ہوئے یہ 

پڑھے{ مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ }، دوسری مٹھی ڈالتے وقت یہ پڑھے{ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ اور تیسری 

مٹھی ڈالتے ہوئے یہ کہے{ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى }. البتہ اگر تدفین کے موقع پر افراد 

 کم 

ہوں کہ ہر ایک تین مرتبہ مٹی ڈال دے پھر بھی قبر پر مٹی ڈالنے کی ضرورت ہو تو مزید مٹی 

بھی ڈالی جائے گی، تین مرتبہ مٹھی بھر کر مٹی ڈالنے کا مطلب یہ ہے کہ مٹی ڈالنے والا ہر 

شخص  کم از کم  اتنی مٹی ڈالے،  یہ مستحب طریقہ ہے۔


قبر کی حاضری پر گریہ وزاری


حضرت سیِدُنا عثمانِ غنی   رضی اللہ تعالٰی عنہ   جب کسی  کی قبر پر تشریف لاتے تو اس قد


ر آنسو بہاتے کہ آپ   رضی اللہ تعالٰی عنہ     کی ڈارھی مبارک تر ہو جاتی ۔ عرض کی گئی :جنّت 


ودوزخ کا تذکرہ کرتے وقت آپ نہیں روتے مگر قبر پر بہت روتے ہیں  اِس کی وجہ کیا ہے ؟ 


فرمایا : میں نے نبّیِ اکرم ،نورِ مجَّسم،شاہ ِ بنی آدم صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم        سے سنا  ہے ، 


آخِرت کی سب سے پہلی منزل قبر ہے ،اگر قبر والے نے اس سے نجات پائی تو بعد کا


معاملہ اس سے آسان ہے اور اگر اس سے نجات نہ پائی تو بعد کا معاملہ زیادہ سخت ہ

Post a Comment

0 Comments

Close Menu