گناہ کسے کہتے ہیں ؟

Ad Code

گناہ کسے کہتے ہیں ؟

   

                                                                                                               گناہ کسے کہتے ہیں ؟ 

عقل مند وہی ہے جس کے دل و دماغ   میں گناہوں کی تباہ کا ریاں راسِح ہوں اور وہ خود کو نہ 

صرف ان سے بچائے بلکہ نیکیاں کر کے اللہ عَزَّو َجَلَّ     کی رضا حاصل کرے مگر افسوس صد 

افسوس دین سے دُوری کی بنا پر آج  ایک مسلمان کا    گناہوں  سے بچنا تو دور کی بات  ہے اس کو 

تو بھی معلوم نہیں کہ کون کون سے کام گناہ ہیں ۔ اس لاعلمی کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ 

چہارم جانِب گناہوں کا بازار گرم ہے ، جس طرف نظر اٹھائیے بے عملی و بے راہ رَوی  کا دور 

دورہ ہے حالانکہ احکام ِ خُداوندی سے منہ موڑنے کا نتیجہ سوائے تباہی وبربادی کے کچھ نہیں 

ہے ۔ چنانچہ ،


حضرت سَیِّدُ نا نَوَّ اس بِن سَمعَان  رضی اللہ تعالٰی عنہ   نے ارشاد فرمایا۔کہ میں نے  اللہ عَزَّو َ

جَلَّ       کے پیارے حبیب  صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم       سے نیکی اور گناہ   سےمتعلق 

پوچھا  تو    آپ صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم      نے ارشاد فرمایا   :     نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے اور گناہ 

سے مراد ہر وہ بات ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اورتو برا سمجھے کہ لوگ اس پر مُطَّلِع ہوں ۔     اور سَلَف       

               صالحین  رَحِمَھُمُ اللہُ المُبِین   فر ماتے ہیں کہ گناہ کُفر کے قاصِد ہیں اس اعتبار سے کہ 

یہ دل میں سیاہی پیدا کرآہستہ  


آہستہ اسے اس طرح ڈھانپ لیتے ہیں کہ پھر اس میں بھلائی قبول کرنے کی صلاحیت باقی 


نہیں رہتی ، اس وقت وہ سخت ہو  


جاتا  ہے اور اس سے  رحمت و مہربانی اور خوف نکل جاتا ہے پھر وہ شخص جو چاہتا ہے کر گزرتا 

ہے اور جسے پسند کرتا ہے اس  پر  

 عمل کر تا ہے نیز  اللہ عَزَّو َجَلَّ      کے مقابلے میں شیطان کو دوست بنا لیتا ہے تو وہ شیطان اسے 


گمراہ کرتا ،ور غلاتا ،جُھوٹی 


اُمیدیں دِلاتا ہے اور جس قدر ممکن ہوکفرسے کم کسی بات پر اس سے راضی نہیں ہوتا۔

 کبیرہ  گناہ کسے کہتے ہیں

٠جو شخص گنا ہوں میں سےکسی ایسےگناہ کا ارتکاب کرے جس کا بدلہ دنیا میں حَدیعنی سزاہے مثلاًقتل، زنا یا چوری وغیرہ

٠ ایسا گناہ کرے جس کے مُتعلق آخرت میں عذاب یا غضَبِ الٰہی کی وعید ہو

٠ اُس گناہ کےمُرتکِب پر ہمارےنبی حضرت محمدمصطفٰے صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زبان سے لعنت کی گئی ہو

٠وہ گناہ جِس کا مُرتکِب قراٰن و سُنّت میں بیان کی گئی کسی سخت وعید کا مُسْتحِق ہوتو وہ کبیرہ گناہ ہے۔ (الکبائر،ص8، الزواجر ، 1/12، اشعۃ اللمعات،77/1)

 گناہِ کبیرہ کی تعداد:

گناہِ کبیرہ کتنے ہیں؟ ان کی تعداد کیا ہے اس میں اختلاف ہے۔ایک روایت سے پتا چلتا ہے کہ سات ہیں دوسری روایت میں نو کی تعداد بتائی گئی ہے جبکہ حضرت سیِّدُنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ کیا گناہ کبیرہ سات ہیں؟

تو آپ نے فرمایا: کہ گناہِ کبیرہ کی تعداد سات سو تک ہے۔

یہاں یہ بات واضح رہے کہ مختلف روایتوں میں جو گناہ کبیرہ کی تعداد بتائی گئی وہ حصرکے لیے نہیں بلکہ مثال کے طور پر ہے ورنہ اور بھی بہت سے گناہ کبیرہ ہیں۔ (منتخب حدیثیں،ص116،115)

50کبیرہ گناہ:

بحیثیت مسلمان چونکہ ہم پرکبیرہ گناہوں سے بچنا لازم ہے اور بچنے کے لئے ان کا جاننا ضروری ہے، اس لئے ذیل میں پچاس کبیرہ گناہ بیان کئے جارہے ہیں تاکہ ان کی معرفت حاصل ہو اور ان سے بچا جاسکے۔

(1) اللہ پاک کا کسی کو شریک ٹھہرانا (2)قتلِ ناحق (3)جادو کرنا (4)نماز چھوڑنا (5)زکوٰۃ نہ دینا (6)والدین کی نافرمانی کرنا (7)سود کھانا (8)ظلماً یتیم کا مال کھانا (9)رَمَضان کے روزے بلا عذر چھوڑنا (10)زِنا کرنا (11)جھوٹی قسم کھانا (12)خود کشی کرنا (13)دَیُّوثی (14)خِیانت کرنا (15)ریاکاری (16)پیشاب سے نہ بچنا (17)مُردار کا گوشت کا کھانا (18)ناجائز ٹیکس وُصول کرنا (19)اِحسان جتانا (20) لواطت (21)کاہِن اور نجومی کو سچا جاننا (22)شوہر کی نافرمانی کرنا (23)قطع تَعلّقی کرنا (24)نوحہ کرنا اور چہرا پیٹنا (25)نسب پر طعن کرنا (26)تکبر سے تہبند لٹکانا (27)مرد کا ریشمی لباس پہننا (28)مرد کا سونا استعمال کرنا (29)سونے چاندی کے برتن استعمال کرنا (30)بد شگونی (31)سونا چاندی کے برتن میں کھانا پینا (32)ناپ تول میں ڈنڈی مارنا (33)اللہ کی رحمت سے ناامید ہونا (34)جوا کھیلنا (35)نماز جمعہ ترک کرنا (36)مسلمانوں کی جاسوسی کرنا (37)نسب بدلنا (38)اولیاء اللہ سے عداوت رکھنا (39)چغلی کھانا (40)کپڑےیا دیوار میں تصویر بنانا (41)مردوں کا زنانی اورعورتوں کا مردانی وضع اپنانا (42)قراٰن و سنّت کے خلاف فیصلہ کرنا (43)ڈاکہ ڈالنا (44)ظلماً لوگوں کا مال لینا (45)پاک دامن عورت پر زنا کی تہمت لگانا (46)حاکم کا اپنی رعایا کو دھوکا دینا (47)شراب پینا (48)میدانِ جہاد سے بھاگنا (49)رسولُ اللہ پر جھوٹ باندھنا (50) صحابہ کو برا بھلا کہنا۔ (الکبائر، الزواجر)


Post a Comment

0 Comments

Close Menu