پڑوسی مُردوں کی پُکار

Ad Code

پڑوسی مُردوں کی پُکار

 


پڑوسی مُردوں کی پُکار


 حضرتِ سیِّدُ نا امام محمد بن محمد بن محمد غزالی علیہِ رَحمۃُاللہِ الوالی نقل فرماتے ہیں : جب گناہ گار مُردے  


کو قبر میں رکھ دیتے ہیں اور اُس پر عذاب کا سلسلہ شُروع ہو جاتا ہے تو اُسکے پڑوسی مُردے 


اُسے  کہتے ہیں : اے اپنے پڑوسیوں اور بھائیوں  کے بعد دنیا میں رہنے والے کیا تیرے لئے  


ہمارے معاملے  میں کوئی عبرت نہ تھی ؟ کیا ہمارے تجھ سے پہلے  دنیا سے  چلے جانے میں 


تیرے لئے غوروفکر کا کوئی مقام نہ تھا ؟ کیا تونے ہمارے سلسلہ اعمال کا ختم ہونا نہ دیکھا ؟ 


تجھے تو مُحلَت تھی تو نے وہ نیکیاں کیوں نہ کر لیں  جو تیر ے بھائی نہ کر سکے ۔ زمین  کا گزشتہ 


اسے پُکار کر کہتا ہے : اے دنیا  ئے  ظاہر  سے دھوکا کھانے والے تجھے ان سے عبرت کیوں نہ 


ہوئی جو تجھ سے پہلے یہاں آچکے تھے اور انہیں بھی دنیا نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا ۔

 

:  حقیقت یہ ہے کہ ہر مرنے والا مرتے ہی گویا یہ پیغام دیتا چلا جاتا   میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو

ہوں  آپ  کو بھی مرنا پڑ جائیگا ، جس طرح مجھے مَنوں  مِٹّی  ہے  کہ کس طرح میں مَر گیا   

اسی طرح تمہیں بھی دفن کیا جائے گا ۔تلے دفن  کیا جانے والا  ہے

میرے بال بچے کہاں ہیں


علیہِ رَحمۃُاللہِ الغَفَار  سے روایت ہے : جب میِّت کو قبر میں   سیِّدُنا عَطاء بن  یَسار حضرت 

رکھا جاتا ہے تو سب سےپہلے اس کاعمل   آکر اس کی بائیں ران  کو حرکت دیتا اور کہتا ہے    

میں  تیرا عمل ہوں ۔وہ مُردہ پوچھتا ہے:میرے بال بچے کہاں ہیں ؟ میری نعمتیں ،میری  

دولتیں  کہاں ہیں ؟ تو عمل کہتا ہے : یہ سب تیرے  پیچھےرہ گئے اور میرے سوا تیری قبر 

میں  کوئی نہیں آیا۔


 دفنانے والوں کو مُردہ  دیکھتا ہے


میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو  غور فرمایئے گناہوں بھری زندگی گزار کر مرنے والے کے لیے کس 

قدر دردناک معاملہ ہوگا اور جب قبر  میں وہ سب کچھ دیکھ ،سُن اور سمجھ رہا ہوگا  اس وقت اس 

مُنَرَّہُ عَنِ العُیُوبپر کیا گزر رہی ہو گی  اللہ  عَزَّوَجَلَّ  کے محبوب ،دانائے غُیوُب ، 

   صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم         کا فرمان عبرت نشان ہے  مُردے کو اس بات کی پہچان ہوتی  ہے کہ اسے

 کون غُسل  دے رہا ہے اور کون اُسے اٹھا رہا ہے  نیز اسے قبر میں کون اُتار رہا ہے۔


بے کسی کا دن 

جب قبر میں اُتا را جا رہا ہو گا  اُس وقت کیا بِیت رہی ہوگی  حضرت سَیِّدُ نا !آہ!آہ!آہ

ابُوزر غِفاری   رضی اللہ تعالٰی عنہ    نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں اپنی بے کَسی کا دن نہ بتاوں  ؟ 

یہ وہ دن ہے جب مجھے قبر میں تنہا اُتار دیا جائے گا ۔

 

Post a Comment

0 Comments

Close Menu