گناہوں کا
سبب بنے والی
چار صفات
انسان کی اچھی اور بُری خصلتیں اگر چہ بہت ہیں مگر ہم یہاں صِرف گناہوں کا تذکرہ
کریں گے ، لہذا گناہوں کے اعتبار سے انسانی او صاف کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا
ہے کہ چار صفات صفاتِ بہیمیہ ،صفاتِ سبعیہ ، صفاتِ ربوبیت اور صفاتِ شیطانیہ
گناہوں کی اصل اور ان کا سر چشمہ ہیں ۔انہی سے گناہ پیدا ہو کر اعضاء کا رُخ کرتے ہیں
۔ بعض گناہ دل کا رُخ کرتے ہیں جیسے کفر اور بدعت و نفاق وغیرہ اور بعض آنکھ ، کان ،
زبان ،پیٹ
،شرم گاہ ، ہاتھ
، اور بعض
تو پورے جسم
پر غالب آجاتے
ہیں ۔
گناہوں کی
اقسام
اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اور بندوں کے حقوق کو سامنے رکھتے ہوئے جب مذکورہ بُری صِفات کے
اعتبار سے گناہوں کا جائزہ لیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان صِفات کی وجہ سے پیدا
ہونے والے گناہ بنیادی طور پر دو طرح کے ہوتے ہیں جنہیں ہم گناہ کبیرہ اور گناہ صغیرہ
کہتے ہیں صغیرہ گناہ مختلف نیکی کے کام کرنے مثلاً نماز ، روزہ ، اور حج وغیرہ کی ادائیگی
سے معاف ہو جاتے ہیں اور یہ عبادت ان گناہوں کے لیے کفارہ بن جاتی ہیں ۔ چنانچہ
حضرتِ سَیِّدُنا ابُو ہُریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے حضور پُر نور ، شافِعِ یومُ النُّشُور
صَلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلیہ وسلَّم کا فرمانِ پُر سُرور ہے پانچوں نمازیں اور جمعہ اگلے جمعہ تک
اور ماہِ رمضان اگلے ماہِ رمضان تک ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہیں جبکہ کبیرہ گناہوں
سے بچا
جائے ۔۔
کبیرہ گناہوں کی دو صورتیں ہوتی ہیں اگر آپ کا تعلق اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حقوق سے ہو تو
سچی توبہ کرنے سے مُعاف ہو جاتے ہیں اور اگر ان کا تعلق بندوں کے حقوق سے ہو تو
حق کی ادئیگی یا صاحبِ حق کی ادئیگی یا صاحبِ حق کے معاف کیے بغیر معاف نہیں ہوتے
۔ چنانچہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب ،دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلیہ وسلَّم کا فرمانِ
مَغفِرَت
نِشان ہے نامئہ
اعمال تین ہیں
ایک نامئہ عمال کو اللہ عَزَّوَجَلَّ نہیں بخشے گا یعنی وہ نامئہ عمل جس میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے
ساتھ کسی کو شریک
ٹھہرانا درج ہو
گا جیسا کہ
فرمانِ باری تعالیٰ
ہے
ترجمہ کنزالایمان
:بے شک اللہ
اسے نہیں بخشتا
کہ اس کے
ساتھ کفر کیا
جائے
اور ایک نامہ عَمَل کو اللہ عَزَّوَجَلَّ نہیں چھوڑے گا یعنی وہ نامئہ عمل جس میں بندوں کا
ایک دوسرے
پر ظُلم کرنا
درج ہو گا
یہاں تک کہ
وہ ایک دوسرے
سے بدلہ لے لیں ۔۔
اور تیسرے نامئہ عمل کی اللہ عَزَّوَجَلَّ کوئی پروا نہیں کرے گا یعنی وہ نامہ عمل جس میں
بندوں کا حُقُوقُ اللہ میں زیادتی کرنا درج ہوگا ۔ اس کے مُتعلق اللہ عَزَّوَجَلَّ کی مرضی ہے
چاہے تو
عذاب دے یا
معاف کر دے ۔




0 Comments