درودِ پاک کی فضیلت
سرکا رِ مدینہ ، راحت ِ قلب و سینہ صَلّی اللّٰلہ
تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم کا فرمانِ عالی شان ہے : تم اپنی مجلسوں
کو مجھ پر دُورو پڑھ
کر آراسۃ کرو
کہ تمہارا مجھ
پر دُرود پڑھنا
بروزِ قیامت تمہارے لیے
نور ہوگا
آغاز تو اچھا تھا مگر انجام بہت ہی برا
ایک آدمی بستر پر لیٹا غفلت کی گہری نیند سو رہا تھا کہ خابوں کی دنیا میں پہنچ گیا کیا دیکھتا ہے وہ
ایک وسیع و عریض ،سر سبزو شاداب جنگل میں ہے جنگل کا حُسن جو بن پر ہے ہر طرف عجب
خوش رنگ پھول کھلے ہیں رنگ پرنگے پرندوں کی چہچہاہٹ منظر میں مزید رنگ بھر رہی ہیں
وہ جنگل کے حسین نظاروں میں اس طرح کھو گیا ہے کہ اسے جنگل کے جانورں کا خوف نہیں
رہا وہ شخص جنگل کے خوب صورت مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہوے چلتا رہا اچانک اسے
پیچھے کچھ محسوس ہوا مڑ کر دیکھا سامنے شیر کھڑا تھا اس کے پیروں تلے زمین نکل گئ شیر کو
دیکھ کر بھاگنا شروع کردیا شیر بھی اس کے پیچھے بھاگا وہ شخص شیر سے پیچھا چھوڑانے کے
لیے اندھا دھند بھاگے چلے جا رہا تھا اتنے میں آگے ایک گڑھا آڑے آگیا اس نے گڑھے میں
جھانک کر دیکھا تو اندر ایک سانپ منہ کو کھولے بیٹھا تھا ۔تو یہ مزید ڈر گیا تھا کہ پیچھے شیر ہے
آگے گڑھے میں سانپ ہےابھی اسی ادھیڑ بن میں تھا کہ اسے ایک بہت بڑا درخت نظر آیا
جس کی بہت سی مضبوط شاخیں زمین پر لٹک رہی تھیں جان بچانے کی خاطر اس
کے ذہن میں درخت پر چڑھنے کا خیال آیا تو جلدی سے ایک شاخ پکڑ کر چڑھ
گیا یہ شاخ اس کے لیے نئ زندگی کا پیغام ثابت ہوئ ابھی اس نے شیر اور سانپ سے جان بچ
جانے کی خوشی میں سانس بھی نہ لیا تھا کہ اسے محسوس ہو ا جس شاخ پر وہ بیٹھا ہوا ہے کو ئ
اسے کُترنے کی کوشش کر رہا ہے غور سے پر معلوم ہوا جس شاخ پر جان بچانے کی غرض
سے بیٹھا تھا دو چوہے اسے کُتر نے کی کوشش کر رہے ہیں اس نے سوچا ان چوہوں کی کیا
اوقات ہے اتنی مضبوط شاخ کو کیسے کاٹیں گے اس نے کو ئ پروا نہ کی بلکہ جان بچ جانے پر
سکھ کا سانس لیا شیر اسی درخت کے نیچے آکر بیٹھ گیا لیکن اس نے سوچا کہ وہ شیر کی پہنچ سے
دور ہے اب شیر میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اتنے اس کی نظر ایک شہد کے چھتے پر پڑی شہد کو دیکھ
کر اس کے منہ میں پانی آگیا تمام خطرات کو بھول کر شہد کو پانے کی کوشش میں لگ گیا وہ
شخص شہد کی لذت میں کچھ ایسا کھویا نہ شاخ کو کُترنے والے چوہے نہ شیر کا خیال رہا بس
شاخ ٹوٹی وہ نیچے گِرا شیر نے ایک ہی وار میں موت کے گھاٹ اتار دیا وہ لڑھکتا ہوا گڑھے میں
گِرا سانپ نے آہستہ آہستہ نگلنا شروع کر دیا اتنے میں اس کی آنکھ کھل گئ وہ سوچنے لگ گیا یہ
کیسا خواب تھا جس کا آغاز تو اچھا تھا مگر انجام بُرا تھا
سبق:
1۔شیر
ہماری موت ہے جو ہر وقت ہمارے پیچھے گھومتی رہتی ہے
2۔دو
چوہے دن اور رات ہیں جو ہماری زندگی کو آہستہ آہستہ کاٹ رہے ہیں
3۔شہد
دنیا ہے جس کی لذت میں آکرہم موت کو بھول جاتے ہیں
4۔گڑھے
میں بیٹھا سانپ ہماری قبر ہے جس میں ہم نے ہر حال میں جانا ہے
اگر اچھا لگے تو لائیک کرنا اور دوستوں کو شئیر کرنا شکریا۔
محمد شعیب
شوکت




0 Comments