قبر پر مٹی ڈالنے والے کی مغفرت ہو گئی
ایک شخص کو انتقال کے بعد کسی نے خواب میں دیکھ کر پوچھا : اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کے
ساتھ کیا مُعاملہ فرمایا ؟ جواب دیا :میر ے اعمال تولے گئے ، گناہوں کا وزن بڑھ گیا ، پھر ایک
اَلحَمدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّتھیلی میری نیکیوں کے پلڑے میں ڈالی گئی جس سے
میری نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوگیا اور میری بخشش ہو گئی ۔ جب اُس تھیلی کو کھولا گیا تو اُس میں
وہ مٹی تھی جو میں نے ایک مسلمان کی کی تدفین کے وقت اُس کی قبر پر
ڈالی تھی ۔
قبر پر مٹی ڈالنے کا طریقہ
مسلمان کی قبر پر مٹی ڈالنا مُستَحب ہے ، اُس کا طریقہ بھی مُلاخَطَہ فرمالیجئے، قبر کے سرہانے کی
طرف سے دونوں ہاتھ سے مٹی اُٹھا اُٹھا کر تین مرتبہ ڈالئے ۔
قبر کی حاضری پر گریہ وزاری
حضرت سیِدُنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ جب کسی کی قبر پر تشریف لاتے تو اس قد
ر آنسو بہاتے کہ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی ڈارھی مبارک تر ہو جاتی ۔ عرض کی گئی :جنّت
ودوزخ کا تذکرہ کرتے وقت آپ نہیں روتے مگر قبر پر بہت روتے ہیں اِس کی وجہ کیا ہے ؟
فرمایا : میں نے نبّیِ اکرم ،نورِ مجَّسم،شاہ ِ بنی آدم صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم سے سنا ہے ،
آخِرت کی سب سے پہلی منزل قبر ہے ،اگر قبر والے نے اس سے نجات پائی تو بعد کا
معاملہ اس سے آسان ہے اور اگر اس سے نجات
نہ پائی تو بعد کا معاملہ زیادہ سخت ہے





0 Comments